اسلام آباد(ملک راشد نذیر) لیگل سپورٹ فاؤنڈیشن کے ادارہ برائے بحالی جسمانی معذوران نے 11 سالہ حمیرہ بی بی کے والدین کے ہمراہ اسلام اباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں 11 سالہ نابالغ بچی حمیرہ بی بی کی گمشدگی کے معاملے پر تفصیلات پیش کی گئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی پریس کانفرنس میں فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو نثار احمد شاہ ایڈوکیٹ ادارہ برائے بحالی جسمانی معزوران کے چیئر پرسن انجم انور اور حمیرا بی بی کے والدین بھی نے شرکت کی انہوں نے میڈیا کو کیس کے پس منظر موجودہ صورتحال اور عدالت سے فاؤنڈیشن کی درخواستوں سے اگاہ کیا حمیرا بی بی کو 24 جون 2024 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 9/4 میں امجد علی کے گھر گھریلو ملازمہ کے طور پر رکھا گیا تھا جو بچوں کے روزگار کے قانون 1991 اور بچوں کے قانون 2018 صرف کی خلاف ورزی ہے 2دسمبر 2024 کو امجد علی نے نابالغ بچی کے خلاف چوری کا جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر نمبر 942/24 درج کروائی جس کے بعد سے بچی لاپتا ہے لیگل سپورٹ فاؤنڈیشن اور ادارہ برائے بحالی جسمانی مزدوران کے مطالبات پریس کانفرنس کے دوران نثار احمد شاہ ایجوکیٹ نے درجہ زیل نکات پر زور دیا نا بالغ حمیرا بی بی کی فوری بازیابی اور عدالت میں پیشی ،جھوٹی ایف ائی آر نمبر 24 / 942 کو منسوخ کرنا امجد علی اور ان کے خاندان کے خلاف نابالغ بچی کی غیر قانونی حراست اور گمشدگی پر قانونی کاروائی بچوں کے تحفظ اور روزگار کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے انہوں نے بتایا کہ معزز اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیا ہے کہ انہیں اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے والدین نے میڈیا اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کو فوری بازیاب کرایا جائے اور انہیں انصاف دلایا جائے انہوں نے اپنی بے بسی اور احکام کی جانب سے کاروائی میں تاخیر پر افسوس کا آغاز بھی کیا سر احمد شاہ ایڈوکیٹ نے کہا لیگل سپورٹ فاؤنڈیشن ہر ممکن قانونی واخلاق وساطت کو بروکار لا کر حمیرہ بی بی اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاپتہ بچی کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کریں اور قانون کے تحت ذمہ داران کو سزا دیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں
پلیز کمنٹ باکس میں کسی قسم کا سپیم لنک شیئر نہ کریں